کیا
آپ جانتے ہیں کہ
ہم روزمرہ زندگی میں
جو کچھ بولتے ہیں،
ان میں سے کچھ
الفاظ تو معنی رکھتے
ہیں لیکن کچھ صرف
عادت کا حصہ ہوتے
ہیں؟ مثلاً 'روٹی ووٹی'
میں 'روٹی' تو سمجھ
آتی ہے مگر 'ووٹی'
کیا ہے؟
آج
کے اس سبق میں
ہم لفظ اور اس
کی مختلف اقسام کے
بارے میں پڑھیں گے
اور یہ سمجھیں گے
کہ اردو قواعد کی
رو سے ایک درست
جملہ کیسے بنتا ہے۔
لفظ اور لفظ کی اقسام
(Lafz) لفظ
جب
انسان بولتا ہے تو
اس کے منہ سے
جو کچھ نکلتا ہے
اسے لفظ کہتے ہیں۔
دوسرے
الفاظ میں، ایسی مرکب
آواز جو کچھ سادہ
آوازوں سے مل کر
بنتی ہے، اسے لفظ
کہا جاتا ہے۔
(Jumla) جملہ
الفاظ
کا ایسا مجموعہ جس
کا مفہوم بالکل واضح
ہو، اسے جملہ کہا
جاتا ہے۔ جملے کو
فقرہ بھی کہا جاتا
ہے۔
:مثال
علم
بہت بڑی دولت ہے۔
علی
میرا دوست ہے۔
آج
سوموار کا دن ہے۔
لفظ کی اقسام
لفظ
کی دو اقسام ہوتی
ہیں:
کلمہ
مہمل
(Kalma) کلمہ
ایسا
لفظ جس کا کچھ
نہ کچھ مطلب سننے
والے کی سمجھ میں
ضرور آئے، اسے کلمہ
کہا جاتا ہے۔
دوسرے
الفاظ میں، وہ لفظ
جو بامعنی ہو اسے
کلمہ کہا جاتا ہے۔
:مثال
روٹی
پانی
بات
(Mehmal) مہمل
ایسا
لفظ جسے سننے سے
کوئی مطلب سمجھ میں
نہ آئے، اسے مہمل
کہا جاتا ہے۔
دوسرے
الفاظ میں، بے معنی
لفظ کو مہمل کہا
جاتا ہے۔
:مثال
پانی
وانی
بات
چیت
کھانا
وانا
ان
مثالوں میں "وانی"، "چیت" اور
"وانا" مہمل ہیں کیونکہ
ان سے کوئی بھی
واضح مطلب سمجھ میں
نہیں آتا۔ یہ سب
بے معنی الفاظ ہیں۔
:نتیجہ
خلاصہ
یہ ہے کہ لفظ
اور جملہ زبان کی
بنیاد ہیں، جن کے
بغیر بات چیت ممکن
نہیں۔ کلمہ وہ لفظ
ہے جو معنی رکھتا
ہے جبکہ مہمل بے
معنی ہوتا ہے۔ ان
بنیادی تصورات کو سمجھنے
سے نہ صرف زبان
سیکھنا آسان ہو جاتا
ہے بلکہ درست اور
مؤثر انداز میں اظہارِ
خیال بھی ممکن ہوتا
ہے۔
Mutazad aur Mutradif Alfaz Kya Hote Hain? | متضاد اور مترادف الفاظ

0 Comments