اردو
زبان میں "جملہ"
بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہم روزمرہ کی بات چیت، لکھائی اور تعلیم میں جملوں کا استعمال
کرتے ہیں۔ اگر الفاظ کو صحیح ترتیب سے ملا کر مکمل بات بیان کی جائے تو اسے جملہ کہتے
ہیں۔ اس مضمون میں آپ جملہ اور اس کی مختلف اقسام کے متعلق آسان الفاظ میں پڑھیں گے۔
جملہ کسے کہتے ہیں؟
الفاظ
کا ایسا مجموعہ جس
کا مفہوم بالکل واضح
ہو، اسے جملہ کہا
جاتا ہے۔ اگر سادہ
الفاظ میں کہا جائے
تو الفاظ کا ایسا
مجموعہ جو مکمل معنی
دے اور پوری بات
واضح کرے۔
:مثالیں
١۔
علی سکول جاتا ہے۔
٢۔
بچے کھیل رہے ہیں۔
٣۔
آج موسم خوشگوار ہے۔
یہ
تینوں جملے ہیں کیونکہ
یہ تینوں مکمل بات
بیان کر رہے ہیں۔
جملے کی پہچان کیا ہے؟
:کسی
بھی جملے میں یہ
تین خصوصیات ہوتی ہیں
١۔
مکمل بات یا خیال
موجود ہوتا ہے۔
٢۔
الفاظ ترتیب سے لکھے
یا بولے جاتے ہیں۔
٣۔
پڑھنے یا سننے والے
کو پوری بات سمجھ
آ جاتی ہے۔
نامکمل جملے کی پہچان کیا ہے؟
الفاظ
کا ایسا مجموعہ جس
کا مفہوم واضح نہ
ہو اُس کو جملہ
نہیں کہا جاتا۔ وہ
نامکمل جملہ ہوتا ہے۔
:مثالیں
١۔
سکول میں
٢۔
بہت اچھا
٣۔
صبح کے وقت
یہ
تینوں جملے نہیں ہیں
کیونکہ ان تینوں کا
مطلب یا مفہوم واضح
نہیں ہے۔
جملے کی اقسام
:اردو
زبان میں جملے کی
مختلف اقسام ہیں۔ اہم
اقسام درج ذیل ہیں
١۔ جملہ خبریہ
ایسا
جملہ جس میں کسی
بات، خبر یا حالت
کو بیان کیا جائے،
جملہ خبریہ کہلاتا ہے۔
اگر سادہ الفاظ میں
بتایا جائے تو یہ
ایسا جملہ ہوتا ہے
جس میں کوئی خبر
یا معلومات دی جاتی
ہے۔
:مثالیں
١۔
احمد کتاب پڑھ رہا
ہے۔
٢۔
بارش ہو رہی ہے۔
٣۔
پاکستان ایک خوبصورت ملک
ہے۔
ان
تینوں جملوں میں صرف خبر یا معلومات دی جا رہی ہے۔
٢۔ جملہ سوالیہ
ایسا
جملہ جس میں سوال
پوچھا جائے، اس کو
جملہ سوالیہ کہا جاتا
ہے۔
:مثالیں
١۔
کیا تم سکول جا
رہے ہو؟
٢۔
تمہارا نام کیا ہے؟
٣۔
آج کون آیا تھا؟
ان
جملوں کے آخر میں
سوالیہ نشان (?) آتا ہے۔
٣۔ جملہ امریہ
ایسا
جملہ جس میں حکم،
درخواست یا نصیحت کی
جائے، جملہ امریہ کہلاتا
ہے۔
:مثالیں
١۔
دروازہ بند کرو۔
٢۔
وقت پر پڑھائی کیا
کرو۔
٣۔
میری مدد کریں۔
٤۔ جملہ تعجبیہ
ایسا
جملہ جس میں خوشی،
حیرت، افسوس یا تعجب
کا اظہار ہو، اُس
کو جملہ تعجبیہ کہا
جاتا ہے۔
:مثالیں
١۔
واہ! کیا خوبصورت منظر
ہے۔
٢۔
افسوس! تم دیر سے
آئے۔
٣۔
ارے! یہ کیسے ہوا؟
یہ
ایسے جملے ہوتے ہیں جن میں مختلف جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔
٥۔ جملہ تمنائیہ
ایسا
جملہ جس میں کوئی
خواہش یا دعا ظاہر
کی جائے، جملہ تمنائیہ
کہلاتا ہے۔
:مثالیں
١۔
خدا تمہیں کامیاب کرے۔
٢۔
کاش میں بھی وہاں
ہوتا۔
٦۔ جملہ شرطیہ
ایسا
جملہ جس میں کسی
شرط کا ذکر ہو،
اُس کو جملہ شرطیہ
کہا جاتا ہے۔
:مثالیں
١۔
اگر بارش ہوئی تو
ہم نہیں جائیں گے۔
٢۔
اگر تم محنت کرو
گے تو کامیاب ہو
جاؤ گے۔
شرطیہ
جملوں میں "اگر" جیسی
شرط موجود ہوتی ہے۔
سادہ اور مرکب جملے میں کیا فرق ہوتا ہے؟
١۔ سادہ جملہ
جس
جملے میں ایک ہی
مکمل بات بیان کی
گئی ہو، اسے سادہ
جملہ کہتے ہیں۔
:مثال
اکرم
سو رہا ہے۔
٢۔ مرکب جملہ
جس
جملے میں دو یا
دو سے زیادہ باتیں
شامل ہوں، اسے مرکب
جملہ کہتے ہیں۔
:مثال
علی
اسکول گیا اور اس
نے امتحان دیا۔
:نتیجہ
سادہ
الفاظ میں کہا جائے
تو جملہ گفتگو کو
واضح بنا دیتا ہے۔
یہ خیالات کو صحیح
طریقے سے بیان کرنے
میں مدد دیتا ہے۔
اردو زبان میں جملے
کی مختلف اقسام ہیں،
جیسے خبریہ، سوالیہ، امریہ،
تعجبیہ، تمنائیہ اور شرطیہ۔
جملوں کی صحیح سمجھ
اور پہچان سے نہ
صرف اردو گرامر بہتر
ہو جاتی ہے بلکہ
بولنے اور لکھنے کا
انداز بھی اچھا ہو
جاتا ہے۔

0 Comments