آغاز اردو زبان کا ایک خوبصورت لفظ ہے۔ یہ لفظ روزمرہ کی گفتگو میں نسبتاً کم استعمال ہوتا ہے، تاہم اردو تحریروں اور ادب میں اسے کثرت سے لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
اگر آپ لفظ "آغاز" کا متضاد اور مترادف جاننا چاہتے ہیں تو یہ مضمون آپ ہی کے لیے ہے۔ اس مضمون میں متضاد اور مترادف کے ساتھ ساتھ آپ لفظ "آغاز" کا مطلب اور اسے جملوں میں استعمال کرنے کے طریقے بھی پڑھیں گے۔
لفظ آغاز کا متضاد اور مترادف
لفظ آغاز کا متضاد
| لفظ | Lafz | متضاد | Mutazad |
|---|---|---|---|
| آغاز | Aaghaz | انجام | Anjaam |
لفظ آغاز کا مترادف
| لفظ | Lafz | مترادف | Mutradif |
|---|---|---|---|
| آغاز | Aaghaz | ابتدا | Ibtida |
لفظ آغاز کے دیگر مترادف الفاظ
(Shuru)
شروع
(Iftitah)
افتتاح
(Shuruaat)
شُرُوعات
آغاز کا مطلب کیا ہے؟
جب
کوئی کام یا چیز پہلی بار شروع ہو تو اسے اس کا آغاز کہتے ہیں۔
لفظ آغاز کا متضاد کیا ہے؟
اردو
میں لفظ آغاز کا متضاد انجام ہے۔
لفظ آغاز کا مترادف کیا ہے؟
لفظ
آغاز کا مترادف ابتدا ہے۔
(Aaghaz Ke Jumlay) لفظ
آغاز کے جملے
اس
نے اپنی تقریر کا آغاز ایک خوبصورت شعر سے کیا۔
(Us
ne apni taqreer ka aaghaz ek khoobsurat sher se kiya.)
ہم
نے سفر کا آغاز صبح سویرے کیا۔
(Hum
ne safar ka aaghaz subah sawere kiya.)
(Anjam Ke Jumlay) لفظ انجام کے جملے
ہر اچھے کام کا انجام بھی اچھا ہوتا ہے۔
(Har
achay kaam ka anjam bhi acha hota hai.)
لڑائی کا انجام صلح پر ہوا۔
(Larai ka anjam sulah par hua.)
(Ibtida Ke Jumlay) لفظ ابتدا کے جملے
سبق کی ابتدا استاد نے دعا سے کی۔
(Sabaq ki ibtida ustad ne dua se
ki.)
دن کی ابتدا فجر کی نماز سے ہونی چاہیے۔
(Din
ki ibtida Fajr ki namaz se honi chahiye.)
:نتیجہ
لفظ ابتدا کا بھی وہی مطلب ہے جو لفظ آغاز کا ہے۔ اس لیے یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جبکہ لفظ آغاز اور انجام ایک دوسرے کے متضاد ہیں کیونکہ جہاں لفظ آغاز کسی کام کے شُروع ہونے کو ظاہر کرتا ہے وہاں لفظ انجام کسی کام کے ختم ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
Zindagi Ka Mutazad Aur Mutradif Kya Hai? | زندگی کا متضاد اور مترادف
