لفظ
پھول اردو زبان کا
ایک خوبصورت اور عام
استعمال ہونے والا لفظ
ہے۔ اس کا استعمال
روزمرہ گفتگو، شاعری، ادب
اور تعلیمی کتابوں میں
بہت زیادہ کیا جاتا
ہے۔ پھول خوبصورتی، خوشبو،
محبت اور تازگی کی
علامت سمجھے جاتے ہیں۔
اگر
آپ اردو گرامر یا
الفاظ کے متضاد اور
مترادف سیکھ رہے ہیں
تو لفظ پھول کے
بارے میں جاننا بھی
ضروری ہے۔ اس مضمون
میں آپ پھول کا
متضاد، مترادف، مطلب اور
مثالوں کے ذریعے اس
کا درست استعمال سیکھیں
گے۔
پھول
کا متضاد اور مترادف
پھول کا متضاد
| لفظ | Lafz | متضاد | Mutazad |
|---|---|---|---|
| پھول | Phool | کانٹا | Kaanta |
پھول کا مترادف
| لفظ | Lafz | مترادف | Mutradif |
|---|---|---|---|
| پھول | Phool | گُل | Gul |
لفظ پھول کے دیگر مترادف الفاظ
(Shagoofa)
شگوفہ
(Kusum) کُسُم
لفظ پھول کا مطلب کیا ہے؟
لفظ
پھول سے مراد پودے
کا وہ خوبصورت اور
خوشبودار حصہ ہے جو
مختلف رنگوں اور شکلوں
میں کھلتا ہے۔
لفظ پھول کا متضاد کیا ہے؟
لفظ
پھول کا متضاد کانٹا
ہے۔
پھول کا مترادف کیا ہے؟
لفظ
پھول کا مترادف گُل
ہے۔
(Phool Ke Jumlay) پھول کے جملے
باغ
میں رنگ برنگے پھول
کھلے ہوئے ہیں۔
Bagh mein rang birangay phool khile
hue hain.
مجھے
گلاب کا پھول بہت
پسند ہے۔
Mujhe gulaab ka phool bohat pasand
hai.
(Kaanta Ke Jumlay) کانٹا کے جملے
گلاب
کے ساتھ کانٹا بھی
ہوتا ہے۔
Gulaab ke sath kaanta bhi hota hai.
کانٹا
میرے ہاتھ میں چبھ
گیا۔
Kaanta mere hath mein chubh gaya.
(Gul Ke Jumlay) گُل کے جملے
شاعر
نے گُل کی خوبصورتی
کو اپنی نظم میں
بیان کیا۔
Shayar ne gul ki khoobsurati ko
apni nazam mein bayan kiya.
اس
نے استاد کو احترام
کے طور پر ایک
گُل پیش کیا۔
Us ne ustad ko ehtram ke tor par ek
gul paish kiya.
:نتیجہ
لفظ
پھول کا متضاد کانٹا
جبکہ مترادف گُل ہے۔
یہ الفاظ اردو زبان
میں عام طور پر
استعمال ہوتے ہیں اور
ادب، شاعری اور روزمرہ
گفتگو میں بھی کثرت
سے ملتے ہیں۔ اگر
آپ مثالوں کے ساتھ
ان الفاظ کو یاد
کر لیں تو آپ
کے لیے ان کا
درست استعمال کرنا مزید
آسان ہو جائے گا۔
