مضمون کسے کہتے ہیں؟
کسی
خاص موضوع کے بارے
میں اپنے خیالات، معلومات
اور احساسات کو ترتیب
کے ساتھ تحریر کرنے
کو مضمون کہتے ہیں۔
امتحان
میں مضمون لکھتے وقت
موضوع کو سمجھنا، مناسب
الفاظ کا انتخاب کرنا
اور خیالات کو ترتیب
سے بیان کرنا ضروری
ہوتا ہے۔
امتحان میں مضمون کیسے لکھتے ہیں؟
امتحان
میں مضمون لکھنے کے
لیے چند اہم باتوں
کا خیال رکھنا چاہیے۔
ایک اچھا مضمون عام
طور پر تین بنیادی
حصوں پر مشتمل ہوتا
ہے:
١۔
تمہید
٢۔
اصل مضمون
٣۔
اختتامیہ
تمہید کسے کہتے ہیں؟
کسی
مضمون یا تحریر کے
شروع میں موضوع کا
مختصر تعارف اور ابتدائی
بات بیان کرنے کو
تمہید کہتے ہیں۔
آسان
الفاظ میں، تمہید مضمون
کی شروعات ہوتی ہے
جس میں قاری کو
بتایا جاتا ہے کہ
آگے مضمون میں کس
موضوع پر بات کی
جائے گی۔
مثال:
اگر
مضمون کا موضوع "وقت
کی پابندی" ہو تو تمہید
میں وقت کی پابندی
کا مختصر تعارف اور
اس کی اہمیت بیان
کی جائے گی۔
مضمون
کا آغاز تمہید سے
کیا جاتا ہے۔ امتحان
میں مضمون لکھتے وقت
کوشش کریں کہ تمہید
سادہ، مختصر اور موضوع
کے مطابق ہو۔
مضمون کا اصل حصہ
تمہید
کے بعد مضمون کا
اصل حصہ لکھا جاتا
ہے۔ اس حصے میں
موضوع سے متعلق اہم
معلومات، خیالات، مثالیں اور
دیگر ضروری باتیں ترتیب
کے ساتھ بیان کی
جاتی ہیں۔
مثال
کے طور پر "درختوں
کی اہمیت" کے مضمون میں
آپ درختوں سے حاصل
ہونے والے فوائد، ماحول
پر ان کے اثرات،
پھل اور لکڑی وغیرہ
کے بارے میں لکھ
سکتے ہیں۔
مضمون
کے اس حصے میں
کوشش کریں کہ ہر
بات موضوع سے متعلق
ہو اور غیر ضروری
باتیں شامل نہ کی
جائیں۔
اختتامیہ کسے کہتے ہیں؟
مضمون
کے آخر میں اختتامیہ
لکھا جاتا ہے۔ کسی
مضمون یا تحریر کے
آخر میں موضوع کے
بارے میں آخری بات،
خلاصہ یا نتیجہ بیان
کرنے کو اختتامیہ کہتے
ہیں۔
آسان
الفاظ میں، اختتامیہ مضمون
کا آخری حصہ ہوتا
ہے جس میں مضمون
میں بیان کی گئی
اہم باتوں کو مختصر
انداز میں سمیٹا جاتا
ہے۔
مثال:
اگر
مضمون کا موضوع "وقت
کی پابندی" ہو تو اختتامیہ
میں وقت کی پابندی
کی اہمیت بیان کرتے
ہوئے یہ بتایا جا
سکتا ہے کہ کامیاب
زندگی کے لیے وقت
کی قدر کرنا اور
وقت کی پابندی کرنا
ضروری ہے۔
امتحان میں مضمون لکھتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
امتحان
میں مضمون لکھتے وقت
درج ذیل باتوں کا
خیال رکھنا چاہیے۔
١۔
سب سے پہلے مضمون
کے موضوع کو اچھی
طرح سے سمجھیں۔
٢۔
موضوع کے مطابق ایک
مناسب عنوان لکھیں۔
٣۔
مضمون کی ابتدا تمہید
سے کریں۔
٤۔
خیالات کو ایک ترتیب
کے ساتھ بیان کریں۔
٥۔
چھوٹے اور آسان جملے
لکھنے کی کوشش کریں۔
٦۔
مشکل الفاظ کی بجائے
مناسب اور عام فہم
الفاظ استعمال کریں۔
٧۔
غیر ضروری باتوں کو
مضمون میں شامل نہ
کریں۔
٨۔
مضمون میں مناسب جگہوں
پر چھوٹے چھوٹے پیراگراف
بنائیں۔
٩۔
املا اور گرامر کی
غلطیوں سے بچیں۔
١٠۔
مضمون کے آخر میں
مختصر اور مؤثر اختتامیہ
لکھیں۔
١١۔
لکھائی صاف اور پڑھنے
کے قابل ہو۔
مضمون لکھنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
اگر
امتحان میں اچانک مضمون
لکھنے کے لیے کہا
جائے تو پہلے چند
منٹ سوچ کر موضوع
سے متعلق اہم نکات
ذہن میں ترتیب دے
لیں۔ اس کے بعد
مضمون کا آغاز کریں۔
مثال
کے طور پر اگر
موضوع "وقت کی پابندی"
ہے تو پہلے وقت
کی پابندی کا مطلب
بیان کریں، پھر اس
کی اہمیت اور فوائد
لکھیں، اس کے بعد
طلبہ کی زندگی میں
وقت کی پابندی کی
ضرورت بیان کریں اور
آخر میں مختصر نتیجہ
لکھ دیں۔ اس طرح
آپ کے لکھے ہوئے
مضمون میں خیالات ایک
ترتیب کے ساتھ بیان
ہوں گے اور مضمون
مکمل اور آسان ہوگا۔
نتیجہ
امتحان
میں اچھا مضمون لکھنے
کے لیے موضوع کو
سمجھنا، خیالات کو ترتیب
دینا اور انہیں سادہ
اور آسان الفاظ میں
بیان کرنا ضروری ہوتا
ہے۔ مضمون کی ابتدا
تمہید سے، درمیانی حصہ
موضوع کی تفصیل سے
اور آخری حصہ اختتامیہ
سے کرنا چاہیے۔
مثال: وقت کی پابندی
وقت
اللہ تعالیٰ کی ایک
بڑی نعمت ہے۔ جو
لوگ وقت کی قدر
کرتے ہیں اور اپنے
کام وقت پر مکمل
کرتے ہیں، وہ زندگی
میں کامیاب ہوتے ہیں۔
وقت کی پابندی انسان
کو نظم و ضبط
سکھاتی ہے۔
طلبہ
کے لیے وقت کی
پابندی کرنا بہت ضروری
ہے۔ انہیں وقت پر
اسکول جانا، پڑھائی کرنا
اور اپنا ہوم ورک
مکمل کرنا چاہیے۔ جو
طالب علم اپنے وقت
کو ضائع نہیں کرتا،
وہ اپنی پڑھائی میں
بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
ہمیں
چاہیے کہ وقت کی
قدر کریں اور اپنے
تمام کام مقررہ وقت
پر مکمل کریں۔ وقت
کی پابندی کرنا کامیاب
زندگی کی ایک اہم
عادت ہے۔
