آپ
اسمِ مشتق کی تعریف اور اس اسم کے متعلق بنیادی معلومات پڑھ چکے ہیں۔ اس صفحے پر آپ
اسمِ مشتق کی تمام اقسام کو آسان الفاظ اور مثالوں کے ساتھ تفصیل سے پڑھیں گے۔
اسم مُشتق کی تعریف
وہ
اسم جو خود تو
مصدر سے بنا ہو،
لیکن اس سے پھر
کوئی دوسرا لفظ نہ
بنتا ہو، اسے اسمِ
مشتق کہا جاتا ہے۔
:مثالیں
لکھنا
سے لکھنے والا (لکھنے
والا)
لکھنا
سے لکھا ہوا (لکھا
ہوا)
اسمِ مشتق کی تمام اقسام
:اسمِ
مشتق کی درج ذیل
اقسام ہیں
١۔
اسمِ فاعل
٢۔
اسمِ مفعول
٣۔
اسمِ حالیہ
٤۔
اسمِ حاصلِ مصدر
٥۔
اسمِ معاوضہ
اسم فاعل کسے کہتے ہیں؟
وہ
اسمِ مشتق جو کسی
فاعل کو ظاہر کرتا
ہے، اس کو اسمِ
فاعل کہا جاتا ہے۔
:جیسا
کہ
اکرم
لکھنے والا
عمران
پڑھنے والا
یہاں
"اکرم" کو لکھنے والا
اور "عمران" کو پڑھنے والا
بتا کر دونوں کا
فاعل ہونا ظاہر کیا
گیا ہے۔ اس طرح
یہاں "لکھنے والا" اور
"پڑھنے والا" اسمِ فاعل ہیں۔
اسمِ فاعل اور فاعل میں فرق
١۔
اردو گرامر میں اسمِ
فاعل بنایا جاتا ہے،
جبکہ فاعل کو نہیں
بنایا جاتا۔
٢۔
اسمِ فاعل وہ ہوتا
ہے جو فاعل کو
ظاہر کرتا ہو، جبکہ
فاعل کام کرنے والے
کو کہتے ہیں۔
٣۔
اسمِ فاعل کو فاعل
کی جگہ استعمال کیا
جا سکتا ہے، لیکن
فاعل کو اسمِ فاعل
کی جگہ استعمال نہیں
کیا جا سکتا۔
اسم مفعول کسے کہتے ہیں؟
اسمِ
مفعول سے مراد ہے
وہ اسمِ مشتق جو
کسی کا مفعول ہونا
ظاہر کرتا ہو۔
:مثالیں
لکھا
ہوا خط
پڑھی
ہوئی کتاب
ان
دونوں جملوں میں "لکھا
ہوا" اور "پڑھی ہوئی" اسمِ
مفعول ہیں کیونکہ یہ
دونوں "خط" اور "کتاب" کا مفعول ہونا
ظاہر کر رہے ہیں۔
اسمِ مفعول کی اقسام
:اسمِ
مفعول کی دو اقسام
ہیں
اسمِ
مفعول قیاسی
اسمِ
مفعول سماعی
اسمِ مفعول اور مفعول میں موجود فرق
١۔
اسمِ مفعول وہ ہوتا
ہے جو مفعول کو
ظاہر کرتا ہے، جبکہ
مفعول وہ ہوتا ہے
جس پر کوئی فعل
واقع ہوا ہو۔
٢۔
اسمِ مفعول کو مصدر
سے بنایا جاتا ہے،
لیکن مفعول کو بنایا
نہیں جاتا۔
٣۔
آپ اسمِ مفعول کو
مفعول کی جگہ پر
استعمال کر سکتے ہیں،
لیکن مفعول کو اسمِ
مفعول کی جگہ پر
استعمال نہیں کر سکتے۔
اسم حالیہ کسے کہتے ہیں؟
وہ
اسمِ مشتق جو کسی
فاعل یا مفعول کی
حالت بیان کرتا ہو،
اس کو اسمِ حالیہ
کہا جاتا ہے۔
:مثالیں
عمران
ہنستا ہوا آیا۔
علی
نے عمران کو پڑھتے
ہوئے دیکھا۔
آپ
نے دیکھا کہ پہلے
جملے میں "ہنستا ہوا" فاعل
کی حالت بیان کر
رہا ہے اور دوسرے
جملے میں "پڑھتے ہوئے" مفعول
کی حالت بیان کر
رہا ہے۔ اس طرح
"ہنستا ہوا" اور "پڑھتے ہوئے" دونوں
ہی اسمِ حالیہ ہیں۔
اسمِ حالیہ بنانے کا طریقہ
اگر
آپ مصدر کے آخر
سے "نا" ہٹا کر "تا
ہوا" لگا دیتے ہیں
تو اسمِ حالیہ بن
جاتا ہے۔
:مثالیں
لکھنا
سے لکھتا ہوا
پڑھنا
سے پڑھتا ہوا
اسم حاصل مصدر کسے کہتے ہیں؟
وہ
اسمِ مشتق جو مصدر
تو نہ ہو لیکن
معنی اور اثر مصدر
کا ظاہر کرتا ہو،
اس کو اسمِ حاصلِ
مصدر کہا جاتا ہے۔
:جیسا
کہ
آہٹ
(آنا)
لڑائی
(لڑنا)
دباؤ
اسمِ حاصلِ مصدر بنانے کے طریقے
١۔
اگر آپ کچھ مصدروں
کے آخر سے "الف"
ہٹا دیں تو جو
باقی رہتا ہے، وہ
اسمِ حاصلِ مصدر بن
جاتا ہے۔
:مثالیں
جلنا
سے جلن
چلنا
سے چلن
٢۔
اگر آپ کچھ مصدروں
کے آخر سے "نا"
ہٹا دیں تو جو
باقی رہتا ہے، وہ
اسمِ حاصلِ مصدر بن
جاتا ہے۔
:مثالیں
دوڑنا
سے دوڑ
دیکھنا
سے دیکھ
٣۔
اگر آپ کچھ مصدروں
کے آخر سے "نا"
ہٹا کر "ؤ" لگا دیتے
ہیں تو حاصلِ مصدر
بن جاتا ہے۔
:مثالیں
دبانا
سے دباؤ
لگانا
سے لگاؤ
٤۔
کچھ مصدروں کے آخر
سے "نا" ہٹا کر "وٹ"
لگا دینے سے حاصلِ
مصدر بن جاتا ہے۔
:مثالیں
ملانا
سے ملاوٹ
سجانا
سے سجاوٹ
٥۔
اگر آپ کچھ مصدروں
کے آخر سے "نا"
ہٹا کر "ہٹ" لگا دیتے ہیں
تو حاصلِ مصدر بن
جاتا ہے۔
:مثالیں
آنا
سے آہٹ
مسکرانا
سے مسکراہٹ
٦۔
اگر آپ کچھ مصدروں
کے آخر سے "نا"
ہٹا کر "آئی" لگا دیتے ہیں
تو حاصلِ مصدر بن
جاتا ہے۔
:مثالیں
لڑنا
سے لڑائی
پڑھنا
سے پڑھائی
٧۔
یہ الفاظ بھی حاصلِ مصدر ہیں۔
لڑکپن
بچپن
اپنائیت
چاہت
چال
٨۔
یہ فارسی زبان کے
حاصلِ مصدر ہیں جو
اردو میں بھی استعمال
کیے جاتے ہیں
گفتگو
جستجو
آمدورفت
آزمائش
پیمائش
٩۔
یہ عربی زبان کے
حاصلِ مصدر ہیں جو
اردو میں بھی حاصلِ
مصدر کے طور پر
ہی استعمال ہوتے ہیں۔
شرافت
جہالت
جماعت
علم
عمل
اسم معاوضہ کسے کہتے ہیں؟
وہ
اسمِ مشتق جو کسی
کام یا خدمت کی
اُجرت اور بدلے کے
معنی دیتا ہو، اسے
اسمِ معاوضہ کہا جاتا
ہے۔
:جیسے
دھلائی
رنگوائی
اسمِ معاوضہ کو بنانے کا طریقہ
اگر
آپ مصدر کے آخر
سے "نا" ہٹا کر "ائی"
لگا دیتے ہیں تو
اسمِ معاوضہ بن جاتا
ہے۔
:مثالیں
لگوانا
سے لگوائی
رنگوانا
سے رنگوائی
:نتیجہ
آخر
میں ہم یہ کہہ
سکتے ہیں کہ اسمِ
مشتق کی کئی اقسام
ہیں۔ ان اقسام میں
اسمِ فاعل، اسمِ مفعول،
اسمِ حالیہ، اسمِ حاصلِ
مصدر اور اسمِ معاوضہ
شامل ہیں۔ اس مضمون
کو پڑھنے سے امید
ہے کہ آپ کو
اسمِ مشتق کی تمام
اقسام اور ان کے
استعمال کو سمجھنے میں
آسانی ہوئی ہوگی۔ مزید
مشق کے ذریعے آپ
اس موضوع پر بہتر
مہارت حاصل کر سکتے
ہیں۔
