“Ism e Sift” Aur “Ism e Mosoof” Mein Kya Farq Hai? | اسم صفت اور اسم موصوف

 

Ism e Sift Aur Ism e Mosoof Mein Kya Farq Hai?

اسم صفت کسے کہتے ہیں؟

وہ اسم جو کسی کی اچھی یا بری حالت کو ظاہر کرتا ہو اس کو اسم صفت کہا جاتا ہے۔

:مثال کے طور پر

اونچی دیوار

نیک لڑکا

برا انسان

ان میں "نیک"، "اونچی" اور "برا" سب اسم صفت ہیں۔

اسم موصوف کسے کہتے ہیں؟

وہ اسم جس کی اچھی یا بری حالت ظاہر کی جاتی ہے اس کو اسم موصوف کہا جاتا ہے۔

:مثال کے طور پر

نیک لڑکا

اونچی دیوار

برا انسان

ان میں "لڑکا"، "دیوار" اور "انسان" سب اسم موصوف ہیں۔


اسم صفت کی اقسام کونسی ہیں؟

اسم صفت کی دو اقسام ہیں۔

١۔ صفت اصلی

٢۔ صفت نسبتی

صفت اصلی کسے کہتے ہیں؟

وہ اسم جو کسی کی اچھائی، برائی یا خوبی، خامی کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کو صفت اصلی کہا جاتا ہے۔ اس کو صفت ذاتی بھی کہا جاتا ہے۔

:مثال کے طور پر

اچھا

برا

نیک

تیز

صفت اصلی کے کتنے درجے ہیں؟

صفت اصلی کے تین درجے ہیں۔

١۔ صفت نفسی

٢۔ صفت بعض

٣۔ صفت کل

صفت نفسی کسے کہتے ہیں؟

وہ اسم صفت جس سے کسی شخص یا چیز کی حالت بغیر کسی مقابلے کے ظاہر کی جاتی ہے، اس کو صفت نفسی کہا جاتا ہے۔

:جیسے کہ

بہادر

خوبصورت

:مثال

علی بہادر لڑکا ہے۔

یہ پھول خوبصورت ہے۔

ان جملوں میں "بہادر" اور "خوبصورت" صفت نفسی ہیں۔

صفت بعض کسے کہتے ہیں؟

وہ اسم صفت جس سے کسی ایک کو دوسرے سے بڑھا کر یا کم کر کے ظاہر کیا جاتا ہے، اس کو صفت بعض کہا جاتا ہے۔

:جیسے کہ

بڑا

کم

بہتر

بُرا

اس کا مقصد ہوتا ہے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کر کے ایک کی برتری یا کمی کو ظاہر کرنا۔

:مثال

کراچی لاہور سے بڑا شہر ہے۔

یہ چائے پہلی والی چائے سے کم میٹھی ہے۔

ان جملوں میں "بڑا" اور "کم" صفت بعض ہیں۔

صفت کُل کسے کہتے ہیں؟

صفت کُل وہ اسم صفت ہے جس سے کسی ایک چیز، شخص یا جگہ کو اس کی جماعت میں سب سے بڑھا کر یا کم کر کے ظاہر کیا جاتا ہے۔

:جیسے کہ

سب سے بڑا

سب سے اچھا

سب سے بُرا

اس کا مقصد کسی ایک چیز کو اس جیسی تمام چیزوں میں سب سے بہتر یا سب سے بدتر ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

:مثال

ہماری جماعت میں احمد سب سے ذہین لڑکا ہے۔

یہ باغ شہر کا سب سے خوبصورت باغ ہے۔

ان جملوں میں "سب سے ذہین" اور "سب سے خوبصورت" صفت کُل ہیں۔

صفت نسبتی کسے کہتے ہیں؟

ایک ایسا اسم صفت جو خود تو صفت نہیں ہوتا لیکن صرف تعلق یا نسبت کی وجہ سے صفت کے معنی ظاہر کرتا ہے، اس کو صفت نسبتی کہا جاتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، یہ وہ اسم صفت ہوتا ہے جو نسبت یا تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

:جیسے کہ

لاہور سے لاہوری

پاکستان سے پاکستانی

ان دونوں میں "لاہوری" اور "پاکستانی" صفت نسبتی ہیں۔

صفت نسبتی بنانے کے طریقے کونسے ہیں؟

١۔ اگر آپ کچھ اسموں کے آخر میں صرف “ی” لگا دیتے ہیں تو صفت نسبتی بن جاتی ہے۔

:مثال

ہند سے ہندی

عرب سے عربی

٢۔ کچھ اسموں کے آخر میں “انہ” لگا کر صفت نسبتی بنائی جاتی ہے۔

:مثال

دوست سے دوستانہ

جاہل سے جاہلانہ

٣۔ کچھ اسموں کے آخر میں صرف “انی” کا اضافہ کر دینے سے صفت نسبتی بن جاتی ہے۔

:مثال

نور سے نورانی

روح سے روحانی

٤۔ کچھ اسموں کے آخر میں “ین” کا اضافہ کر دینے سے صفت نسبتی بن جاتی ہے۔

:مثال

نمک سے نمکین

رنگ سے رنگین

٥۔ یہ الفاظ بھی صفت نسبتی کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

شرمیلا

رنگیلا

زہریلا

سنہری

جیالا

گنوار

٦۔ اسی طرح لفظ “مکہ” اور “مدینہ” کی صفت نسبتی کچھ اس طرح سے بنائی جاتی ہے۔

مکہ سے مکی

مدینہ سے مدنی

نتیجہ 

اسم صفت اور اسم موصوف کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے صرف یہ یاد رکھیں کہ اسم صفت کسی شخص، چیز یا جگہ کی خوبی، خامی یا حالت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اسم موصوف وہ اسم ہے جس کی صفت بیان کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

کلمہ کسے کہتے ہیں؟

اسمِ مفعول کی اقسام کونسی ہیں؟

اسم فاعل کی تعریف اور اقسام