آپ
جانتے ہیں کہ اسمِ
مفعول، اسمِ مشتق کی
ایک قسم ہے۔ اسمِ
مفعول کے متعلق تعریف
کے ساتھ آپ پہلے
پڑھ چکے ہیں۔ اس
صفحے پر آپ اسمِ
مفعول کی تمام اقسام
کے متعلق تفصیل کے
ساتھ پڑھنے جا رہے
ہیں۔
اسمِ مفعول کی تعریف
اسمِ
مفعول سے مراد ہے
وہ اسمِ مشتق جو
کسی کا مفعول ہونا
ظاہر کرتا ہو۔
اسمِ مفعول کی تمام اقسام
:اسمِ
مفعول کی دو اقسام
ہیں
١۔
اسمِ مفعول قیاسی
٢۔
اسمِ مفعول سماعی
اسمِ مفعول قیاسی کسے کہتے ہیں؟
ایک
ایسا اسمِ مشتق جو
قاعدے کے مطابق مصدر
سے بنایا جائے، اسے
اسمِ مفعول قیاسی کہا
جاتا ہے۔
اسمِ مفعول قیاسی بنانے کا طریقہ
جس
مصدر سے آپ نے
اسمِ مفعول بنانا ہو،
اس کے ماضی مطلق
کے آخر میں "ہُوا"
لگا دینے سے اسمِ
مفعول بن جاتا ہے۔
:مثال
لکھنا
سے لکھا ہُوا
لکھنا
سے لکھی ہُوئی
اسمِ مفعول سماعی کسے کہتے ہیں؟
وہ
اسم جو کسی بھی
قاعدے سے نہیں بنایا
جاتا، لیکن معنی اسمِ
مفعول کے دیتا ہے،
اسے اسمِ مفعول سماعی
کہا جاتا ہے۔
:جیسے
دُکھی
آزمودہ
:نتیجہ
اس
مضمون میں ہم نے اسمِ مفعول کی اقسام کے بارے میں تفصیل سے پڑھا۔ اسمِ مفعول کی دو
اقسام ہیں: اسمِ مفعول قیاسی اور اسمِ مفعول سماعی۔ اس مضمون میں ہم نے اسمِ مفعول
کی تعریف، اقسام اور مثالوں کو آسان الفاظ میں سمجھا۔
