Kalma Aur Kalma Ki Iqsam | کلمہ اور کلمہ کی اقسام

 

Kalma Aur Kalma Ki Iqsam

کلمہ اردو زبان کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی مدد سے ہم اپنے خیالات اور باتوں کو سمجھنے اور بیان کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم کلمہ کی تعریف اور اس کی اقسام کے بارے میں آسان الفاظ میں جانیں گے۔

کلمہ کی تعریف

ایسا لفظ جس کا کچھ نہ کچھ مطلب سننے والے کی سمجھ میں ضرور آئے، اسے کلمہ کہا جاتا ہے۔


کلمہ کی اقسام کونسی ہیں؟

:کلمہ کی تین اقسام ہوتی ہیں

(Ism) ١۔ اسم

(Fail) ٢۔ فعل

(Harf) ٣۔ حرف

اسم کسے کہتے ہیں؟

کسی شخص، جگہ یا چیز کے نام کو اسم کہا جاتا ہے۔

:مثال

لاہور

اکرم

پنکھا

فعل کسے کہتے ہیں؟

ایک ایسا کلمہ جو اپنے معنی کے اعتبار سے مستقل ہو، اسے فعل کہا جاتا ہے۔ فعل کسی کام کے کرنے، نہ کرنے، ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس میں تین زمانوں یعنی حال، ماضی اور مستقبل میں سے کوئی ایک زمانہ پایا جاتا ہے۔

:مثال

آیا

جاتا تھا

لکھے گا

حرف کسے کہتے ہیں؟

ایسا کلمہ جو اکیلا تو کوئی معنی نہ دے لیکن دوسرے کلمات کے ساتھ مل کر معنی دے اور ان میں تعلق بھی پیدا کرے۔ یہ اپنے معنی کو ظاہر کرنے کے لیے دوسرے کلمات کا محتاج ہوتا ہے۔

:مثال

اکرم گھر سے سکول تک گیا۔

اس مثال میں "سے" اور "تک" دونوں حرف ہیں۔

کلمہ اور جملے میں کیا فرق ہے؟

کلمہ ایک لفظ ہوتا ہے، جبکہ کئی کلمات مل کر ایک مکمل جملہ بنا سکتے ہیں۔

:مثال

علی ایک کلمہ ہے۔

علی سکول گیا۔ ایک جملہ ہے۔

:نتیجہ

کلمہ کی تین اقسام اسم، فعل اور حرف ہیں۔ اسم نام کو، فعل کام کو اور حرف کلمات کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ کلمہ اور اس کی اقسام کو سمجھنا اردو زبان سیکھنے کے لیے ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

لفظ کی تعریف اور اقسام

جملہ اور اس کی اقسام

تزکیر و تانیث کیا ہے؟