Fail Kise Kehte Hain? | Fail Ki Iqsam Konsi Hain? | فعل کی اقسام

 

Fail Ki Tareef Aur Iqsam

فعل کسے کہتے ہیں؟

فعل وہ کلمہ ہوتا ہے جس سے کسی کام کا کرنا یا ہونا کسی زمانے میں معلوم ہوتا ہو۔

:جیسا کہ

علی نے کتاب پڑھی۔

اکرام آیا۔

فعل اور زمانے کا تعلق

فعل کا تعلق زمانے کے ساتھ ہوتا ہے۔ زمانے کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

١۔ زمانہ ماضی

گزرے ہوئے زمانے کو زمانہ ماضی کہا جاتا ہے۔

٢۔ زمانہ حال

موجودہ زمانے کو زمانہ حال کہا جاتا ہے۔

٣۔ زمانہ مستقبل

آنے والے زمانے کو زمانہ مستقبل کہا جاتا ہے۔


فعل کی کتنی قسمیں ہیں؟

١۔ فعل ماضی

٢۔ فعل حال

٣۔ فعل مستقبل

٤۔ فعل مضارع

٥۔ فعل امر

٦۔ فعل نہی

٧۔ فعل لازم

٨۔ فعل متعدی

٩۔ فعل معروف

١٠۔ فعل مجہول

١١۔ فعل تام

١٢۔ فعل ناقص

فعل کے لیے فاعل کی کتنی حالتیں ہوتی ہیں؟

فعل کے لیے فاعل کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ جیسے کہ غائب، حاضر اور متکلم۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ فاعل واحد ہے یا جمع ہے۔ اس طرح سے، فعل کی چھ مختلف حالتیں اور درجے بن جاتے ہیں۔

١۔ واحد غائب

٢۔ جمع غائب

٣۔ واحد حاضر

٤۔ جمع حاضر

٥۔ واحد متکلم

٦۔ جمع متکلم

ان درجوں کو صیغے کہتے ہیں اور کسی فعل کو ان صیغوں میں تبدیل کرنے کو گردان کہا جاتا ہے۔

فعل ماضی کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جاتا ہے۔

:مثال

احمد گیا۔

اکرم خط لکھتا تھا۔

فعل ماضی کی قسمیں

١۔ ماضی مطلق

٢۔ ماضی قریب

٣۔ ماضی بعید

٤۔ ماضی شکیہ

٥۔ ماضی تمنائی

٦۔ ماضی استمراری

فعل حال کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا موجودہ زمانے میں پایا جاتا ہے۔

:مثال

اکرم کتاب پڑھتا ہے۔

ہارون مضمون لکھ رہا ہے۔

فعل حال بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

اگر آپ مصدر کے آخر سے "نا" کو ہٹا کر "تا ہے" لگا دیتے ہیں تو فعل حال بن جاتا ہے اور اگر آپ "رہا ہے" لگا دیتے ہیں تو فعل حال جاری بن جاتا ہے۔

فعل مستقبل کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جو کسی کام کا کرنا یا ہونا آنے والے زمانے میں ظاہر کرتا ہے۔

:مثال

عمران ملتان جائے گا۔

علی امتحان میں پاس ہو گا۔

فعل مستقبل بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

مصدر کے آخر سے "نا" کو ہٹا کر "ے گا" یا "ے گی" لگا دینے سے فعل مستقبل بن جاتا ہے۔

:مثال

جانا سے جائے گا

پڑھنا سے پڑھے گا

فعلِ مضارع کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جو کسی کام کا کرنا یا ہونا موجودہ اور آئندہ زمانے میں ظاہر کرتا ہے۔

:مثال

عمران آئے۔

علی کھائے۔

فعلِ مضارع بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

اگر آپ مصدر کے آخر سے "نا" کو ہٹا کر "ئے" لگا دیتے ہیں تو فعلِ مضارع بن جاتا ہے۔

:مثال

"آنا" سے "آئے"

"کھانا" سے "کھائے"

فعلِ امر کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جو کسی کام کے کرنے یا ہونے کا حکم ظاہر کرتا ہے۔

:مثال

تو آ۔

تم جاؤ۔

فعلِ امر بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

اگر آپ مصدر کے آخر سے "نا" کو ختم کر دیتے ہیں تو جو باقی بچے گا وہ فعلِ امر واحد حاضر کا صیغہ ہوگا۔

فعلِ امر کے دو صیغے ہوتے ہیں۔

١۔ واحد حاضر

٢۔ جمع حاضر

:مثال

"آنا" سے "آ"

"جانا" سے "جا"

فعلِ نہی کسے کہتے ہیں؟

فعلِ نہی وہ فعل ہے جو کسی کام کے نہ کرنے یا نہ ہونے کا حکم ظاہر کرتا ہے۔

:مثال

تو نہ جا۔

تم مت لکھو۔

فعلِ نہی بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

اگر آپ فعلِ امر کے شروع میں "نہ" یا "مت" لگا دیتے ہیں تو یہ فعلِ نہی بن جاتا ہے۔

:مثال

"جا" سے "نہ جا"

"لکھو" سے "مت لکھو"

فعلِ لازم کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جو صرف فاعل کو ظاہر کرتا ہے اور اس کو اپنا مطلب پورا کرنے کے لیے کسی مفعول کی ضرورت نہیں ہوتی۔

:مثال

عمران ہنسا۔

میں بیٹھا۔

فعلِ متعدی کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جس کو اپنا مطلب پورا کرنے کے لیے فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

:مثال

آصف نے کتاب پڑھی۔

اُستاد نے سبق پڑھایا۔

فعلِ معروف کسے کہتے ہیں؟

وہ فعل جس میں کام کرنے والا یعنی فاعل واضح طور پر معلوم ہو، اس کو فعلِ معروف کہا جاتا ہے۔

:مثال

اکرم نے کھانا کھایا۔

عمران نے کتاب پڑھی۔

فعلِ مجہول کسے کہتے ہیں؟

وہ فعل جس میں فاعل کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو، اس کو فعلِ مجہول کہا جاتا ہے۔

:مثال

کھانا کھایا گیا۔

سبق پڑھایا گیا۔

فعلِ لازم سے مجہول نہیں بنتا۔ فعلِ مجہول ہمیشہ فعلِ متعدی سے بنتے ہیں۔

فعلِ تام کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جو اگر فعلِ لازم ہو تو فاعل کا ذکر کر دینے کے بعد اور اگر فعلِ متعدی ہو تو فاعل اور مفعول دونوں کا ذکر کر دینے کے بعد اس کے معنی مکمل ہو جاتے ہیں۔

:مثال

علی آیا۔

یہاں "آیا" فعلِ تام ہے اور "علی" فاعل ہے۔

عمران نے خط لکھا۔

یہاں "لکھا" فعلِ تام ہے۔ "عمران" فاعل ہے اور "خط" مفعول ہے۔

فعلِ ناقص کسے کہتے ہیں؟

یہ وہ فعل ہے جس کے معنی تب تک مکمل نہیں ہوتے جب تک اس کے اسمِ ذات کے ساتھ ایک دوسرے اسمِ صفت کا ذکر نہ کیا جائے۔

:مثال

اکرم نیک ہے۔

اس جملے میں "ہے" فعلِ ناقص ہے۔ اگر اس جملے میں اسم "اکرم" کا ذکر کرنے کے بعد اسمِ صفت "نیک" کا ذکر نہ کیا جائے تو معنی مکمل نہیں ہوں گے۔

ہے

ہیں

ہوگا

ہوگی

تھا

رہا

وغیرہ فعلِ ناقص ہیں۔

نتیجہ

اگر سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو فعل سے کسی کام کے کرنے یا ہونے کا پتا چلتا ہے۔ فعل کی مختلف اقسام اور ان کے استعمال کو سمجھنا اردو زبان سیکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

اسم صفت اور اسم موصوف کسے کہتے ہیں؟

کلمہ اور کلمہ کی اقسام

اسمِ مفعول کی اقسام کونسی ہیں؟

 

 

Mt